Home / Urdu Poetry / Ek Aaam Si Larki

Ek Aaam Si Larki

میں ایک عام سی لڑکی ہوں مجھے گمنام رہنے دو سنو لڑکی ابھی تم عشق مت کرنا ابھی گڑیا سے کھیلو تم تمہاری عمر ہی کیا ہے فقط سترہ برس کی ہو ابھی معصوم بچی ہو نہیں معلوم ابھی تم کو کہ جب یہ عشق ہوتا ہے تو انسان کتنا روتا ہے ستارے ٹوٹ جاتے ہیں سہارے چھوٹ جاتے ہیں ابھی تم نے نہیں دیکھا کہ جب ساتھی بچھڑتے ہیں تو کتنا درد ملتا ہے کہ ہر فرقت کے موسم میں ہزاروں غم ابھرتے ہیں ہزاروں زخم کھلتے ہیں سنو لڑکی میری مانو پڑھائی پر توجہ دو کتابوں میں گلابوں کو کبھی بھولے سے مت رکھنا کتابیں جب بھی کھولو گی یہ کانٹوں کی طرح دل میں جو ہونگے خون بہانے کے تمہی پہ روستای گے کسی کو خط نہیں لکھنا لکھائی پکڑی جاتی ہے بڑی رسوائی ہوتی ہے کسی کو فون مت کرنا وہ آوازیں صدا دی ہے میری نظمیں نہیں پڑھنا یہ محشر اٹھا دیں گی تمہیں پاگل بنا دیں گی سنو لڑکی میری مانو اپنی تقدیر سے تم کھل کے مت لڑنا ابھی گڑیا سے کھیلو تم ابھی تم عشق مت کرنا سنو لڑکی ابھی تم عشق مت کرنا پاگل آنکھوں والی لڑکی اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو تھک جاؤ گی سے نازک خواب تمہارے ٹوٹ گئے تو پچھتاؤ گی سوچ کا سارا اجلا کندن ثبت کی راکھ میں گھل جائے گا کچے پکے رشتوں کی خوشبو کا ریشم کھل جائے گا تم کیا جانو خواب سفر کی دھوپ کے تیشے خواب پوری رات کا دوزخ خواب خیالوں کا پچھتاوا خوابوں کی منزل رسوائی خوابوں کا حاصل تنہائی تم کیا جانو مہنگے خواب خریدنا ہوں تو آنکھیں بیچنا پڑتی ہے یا رشتے بھولنا پڑتے ہیں اندیشوں کی ریت نہ پھانکو پیاس کی اوٹ سراب نہ دیکھو اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو تھک جاؤ گی
اردو سینٹر پلس

About admin

Check Also

Sunday I Itni GumSum Lion Hai ?

زندگی اتنی گم صم کیوں ہے؟؟؟ کبھی کبھی انسان اپنی ذات سے ہی تنگ آ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *