Home / Urdu Poetry / Larki Khilona Nhi Huti..

Larki Khilona Nhi Huti..

لڑکیاں کھلونا نہیں ہوتی والدین تو بس پیار سے گڑیا کہتے ہیں۔لڑکی ملکیت کے نہیں محبت کے حصار میں جینا پسند کرتی ہے ۔
کیسی نازک ہوتی ہے لڑکیاں چوڑی ٹوٹ جائے تو رو رو کے گھر سر پر اٹھا لیتی ہیں، دل ٹوٹ جائے تو سامنے بیٹھی ماں کو پتہ تک نہیں چلنے دیتی۔ ذرا سا ہاتھ کٹ جائے تو سارا گھر خدمت کو کھڑا کر لیتی ہیں، روح دکھوں سے چھلنی ہو جائے تو بھی اف تک نہیں کرتی ۔اپنی پسند کا سوٹ نہ ملے تو عید نہیں مناتیں اور ایک ناپسندیدہ انسان کے ساتھ چپ چاپ عمر گزار دیتی ہیں۔
دنیا میں لڑکیوں سے زیادہ احمق کوئی اور نہیں ہوتا خوش فہمی کا آغاز اور اختتام ہم پر ہی ہوتا ہے ساری عمر ہم محبت کی بیساکھیوں کا انتظار کرتی رہتی ہیں تاکہ زندگی کی دوڑ شروع کرسکیں کوئی ہم سے ہمدردی کرے تو ہمیں خوش فہمی ہونے لگتی ہے کوئی ہماری تعریف کرے تو وہ ہمیں اپنی مٹھی میں قید نظر آنے لگتا ہے، عقل تب آتی ہے جب کوئی ہمیں ریجیکٹ کرتا ہے اور ٹھوکر لگا جاتا ہے
لڑکیاں سمندر کی ریت کی مانند ہوتی ہے عیاں پڑی ریت اگر ساحل پہ ہو تو قدموں تلے روندی جاتی ہے اور اگر سمندر کی تہ میں ہو تو کیچڑ بن جاتی ہے لیکن اسی ریت کا وہ ذرا جو خود کو ایک مضبوط سیپ میں ڈھک لے وہ موتی بن جاتا ہے۔
لڑکے کی مثال ایک دیوار کی مانند ہے اور لڑکی کی ایک بیل کی طرح ہوتی ہے دیوار اس بیل کو سہارا فراہم کرتی ہے جبکہ بیل دیوار کو خوبصورت بناتی ہے، پھول پتوں سے سجاتی ہے اور یہ اتنا ہی اوپر جاتی ہے جتنا دیوار ہوتی ہے۔
لڑکی چاہے قدمی چھوٹی ہو یا بڑی گوری ہو یا کالی موٹی ہو یا پتلی میرے لیے سب باعث عزت اور احترام ہے کوئی بھی لڑکی اپنی مرضی سے ایسی نہیں بنی ا سے اللہ نے بنایا ہے ہر ایک میں اللہ نے کوئی خوبی رکھی ہے مردوں کی اکثریت جسم کو دیکھتی ہے کیونکہ ان کو جسم سے غرض ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ہر لڑکی خوبصورت نظر آنا چاہتی ہے اور پھر ہم میک اپ کا مذاق اڑاتے ہیں مرد باتیں تو سادگی اور پردے کی کرتا ہے لیکن لڑکی کو پسند اپنے نفس کے مطابق کرتا ہے لڑکی کوئی پروڈکٹ نہیں ایسے مرد بنیں کے ہر لڑکی آپ جیسا انسان مانگے ایسے مرد نہیں کہ لڑکی کا مرد پر سے اعتبار اٹھ جائے۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لڑکی سے محض اس کے حسن کی وجہ سے شادی کی خواہش نہ کرو کیونکہ حسن ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔
ہم لڑکیوں کے خواب ٹوٹتے رہتے ہیں ہمیں عادت ہوتی ہے سمجھوتے کرنے کی۔ہم لڑکیاں بھی پنجرے میں قید طوطے کی طرح ہوتی ہیں جس سے محبت تو کی جاتی ہے لیکن اڑ جانے کے خوف سے کبھی آزاد نہیں کیا جاتا۔
لڑکیاں جتنی زیادہ اموشنل ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ مضبوط بھی ہوتی ہیں۔
ایک لڑکی کو اتنا مضبوط ضرور ہونا چاہیے کہ خود بخود اس کا مقام ایسا تعین ہو جائے کہ کوئی بھی لڑکا اسے مخاطب کرتے ہوئے ایک خوف سا محسوس کرے لڑکیوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ لڑکے بھی ایسی لڑکی کی عزت کرتے ہیں جو اپنی عزت کرنا جانتی ہوں اور اپنے عورت ہونے کے مقام سے خوب اچھی طرح واقف ہوں
میں نے محبت میں لڑکی سے بڑا بیوقوف نہیں دیکھا اکثر ایسے لوگوں کو اپنا سمجھ بیٹھتی ہے جو خود اپنے بھی نہیں ہوتے۔لڑکی اگر محبت نبھائے تو بے ادب اور اگر محبت قربان کرتے تو بے وفا کہلاتی ہے۔اگر کوئی لڑکی کسی سے محبت کرے تو ضروری نہیں کہ وہ بدکردار ہو۔
ہم یا تو لڑکی کو نکاح میں رکھتے ہیں یا نگاہ میں اور مسئلہ تب آتا ہے جب جس کو نگاہ میں رکھتے ہیں اسے نکاح میں نہیں رکھتے اور جسےنکاح میں رکھتے ہیں اسے نگاہ میں نہیں رکھتے۔
رہی محبت تو اچھی لڑکیوں کو بھی ہوجاتی ہے لیکن جب انھیں یہ پتہ چل جائے کہ وہ محبت انہیں نہیں مل سکتی تو وہ خاموش رہتی ہیں اچھی لڑکیاں خاموش ہی اچھی لگتی ہیں۔
تم جانتے ہو اس لڑکی کا کیا حال ہوتا ہے جو محبت کرتی ہے پناہ بخدا وہ نہیں جانتی کیا بن جائے گی کیا ہوجائے گی وہ اپنی محبت سے حیران اور بے بس ہوکر مرد کی طرف تکتی ہے اور اس کے اشارے کا انتظار کرتی ہے جو کچھ مرد اس کو بنانا چاہتا ہے وہ بن جاتی ہے ۔
وہ اپنے تخیل میں مرد کی عجیب عجیب تصویریں بناتی ہے ان تصویروں کی پوجا کرتی ہے پھر جب اس کے پیروں کے رنگ و روغن کو دھو ڈالتے ہیں جب وہ مرد کی حقیقت کو عریاں دیکھتی ہے تو حیران و بدحواس و ششدر رہ جاتی ہے کہ یہی وہ لڑکا تھا جس پر میں مرتی تھی۔
جو لڑکا کسی لڑکی کو محبت کو آزمانے کے لیے اس لڑکی سے ثبوت کے طور پر جسم مانگتا ہے تو اس لڑکی کو چاہیے وہ اس لڑکے سے کہے کہ پہلے تم مجھ سے سب کے سامنے نکاح کرکے اپنی محبت ثابت کرو پھر میں ساری زندگی کے لئے اپنا جسم اور روح صرف اور صرف تمہیں سونپ کر اپنی جائز اور سچی محبت ثابت کروں گی اور جو لڑکا ایسا نہ کرے وہ کسی طور پر کسی طرح سے بھی سچا نہیں ہے جھوٹا ہے ڈرامہ ہے ایک، بس جو آپ سے محبت کرے گا ہمیشہ آپ کو پاکیزہ رکھے گا روح سے چاھنے والے عشق بات جسموں کی کرتے نہیں۔
کسی لڑکی کی طرف ہاتھ اس وقت بڑھاؤ جب اسے اپنی بیوی بنانے کی ہمت رکھتے ہوں صرف جانچنے کے لئے اور معیار پر پورا نہ اترنے پر دھتکارنے کے لئے نہیں۔
اچھی لڑکیاں نامحرم کی محبت ختم ہونے پر روتی نہیں بلکہ شکر ادا کرتی ہیں کہ اللہ نے انہیں گناہ اور آزمائش سے بچالیا۔ اچھی لڑکیاں وہی ہوتی ہیں جو رب کے حکم کے آگے اپنے دل کی خواہش کو رد کر دیتی ہیں اور وہی آخرت میں کامیابی ہوتی ہیں۔
اچھی لڑکیاں اللہ تعالی کی بات مانتی ہیں وہ ہر جگہ نہیں چلی جاتی وہ ہر کسی سے نہیں ملی لیتیں وہ ہر بات نہیں کر لیتیں۔جو لڑکی اللہ کی بات مانتی ہے اللہ اسے ٹھوکر نہیں لگنے دیتا اسے اس کی سوچ سے بھی زیادہ نوازتا ہے۔
اچھی لڑکیاں اپنی اداسی کو گانے فلمیں ڈرامے اور چیٹنگ کر کے دور نہیں کرتی، بلکہ نماز قرآن اور دعا سے اپنی اداسی کو ختم کرتی ہیں۔ وہ لڑکیاں حقیقت میں نیک ہوتی ہیں جو سکون کے لئے کسی مرد کی طرف نہیں بلکہ اپنے اللہ کی طرف رجوع کرتی ہیں۔
قرآن میں لڑکی کو اپنی پسند ظاہر کرنے کا پورا حق دیا ہے لیکن اس حق کا غلط استعمال کرنا جائز نہیں۔
کبھی بھی کسی لڑکی کو اس کی رضا کے بغیر مت اپنانا اور اپنا لو تو کبھی اس کی محبت کی خواہش مت کرنا ،میں نے لڑکی کو ہمیشہ کمزور سمجھا تھا موم کی گڑیا کی طرح لیکن ایک عمر برتنے کے بعد میں نے یہ جانا ہے کہ لڑکی موم ہے یا پتھر اس کا فیصلہ وہ خود کرتی ہے کسی دوسرے شخص کو اسے موم یا پتھر کا خطاب دینے کا حق نہیں ہوتا وہ خود چاہے تو محبوب کے اشاروں کی سمت مرتی رہتی ہے اور پتھر بننے کا فیصلہ کر لے تو کوئی شخص بھیکاری بن کر بھی اس کی ایک نگاہِ التفات نہیں پا سکتا۔
لڑکی ہونا کوئی آسان بات نہیں ہے جو خود کے گھر میں بھی پرائی ہوتی ہے۔آدھےخواب اپنے دل میں ہی دفنا نے پڑتے ہیں۔
والدین شاید لڑکیوں سے اسی لیے زیادہ پیار کرتیں ہیں کہ نہ جانے ان کی آئندہ زندگی میں انہیں اتنا پیار لاڈ اور دلارمل بھی سکے گا یا نہیں، جس شخص کے ہاتھوں میں وہ اپنی ہیرے جیسی بیٹی دے رہے ہیں وہ اس کی قدر کر سکے گا کہ نہیں کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں ،
کہ بیاہی بیٹیوں کے دکھ بابل کی دہلیز کے اندر بیٹھی بیٹیوں سے کہیں زیادہ دل شکن اور اعصاب توڑ ہوتے ہیں جو اچھے خاصے والدین کو ریت کی بھربھری دیوار کی طرح آہستہ آہستہ زمین بوس کرتے چلے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اس کو دی جانے والی تمام دعاؤں میں نصیب اچھے ہونے کی دعا سرفہرست ہمیشہ سے رہی ہے
لڑکی شادی پہ کتنی ہی خوش کیوں نہ ہو نکاح کے دستخط کرتے وقت ایک بار پورے وجود سے کام جاتی ہے باپ کی جگہ ہمیشہ کے لئے شوہر کا نام آجاتا ہے حقدار بدل جاتا ہے۔
دنیاداری دیکھی جائے تو لڑکی کی شادی سسرال والوں سے ہوتی ہے شریعت دیکھی جائے لڑکی پر سب سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہوتا ہے مگر آج کی لڑکی کو شوہر سے زیادہ سسرال والوں کو خوش رکھنا پڑتا ہے۔
جس لڑکی کو ساتھ چاند کا ٹکڑا کہہ کر بہو بنا کر لاتی ہے کچھ عرصے بعد اس بہو میں کیڑے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں یہ کیڑے پہلے نظر نہیں آتے کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ کیڑے میکےمیں نہیں تھے سسرال میں تھے جو بعد میں اس لڑکی پر اثرانداز ہوئے۔
لڑکی کو لوگ کہتے ہیں کہ سسرال برا نہیں ھوتا واقعی سسرال برا نہیں ہوتا اور وہاں موجود لوگوں کے رویے برے ہوتے ہیں اگر رویہ اچھے ہوں تو سسرال لڑکی کو کبھی برا نہ لگے۔
کہتے ہیں جہاں عزت نہ ملتی ہو وہاں ہرگز قیام نہ کرو سلام ہے ان لڑکیوں کو جن کے سسرال والے ان کی عزت و تکریم نہیں کرتے پھر بھی وہ اپنے شوہروں کی خاطر سسرال میں رہ رہی ہیں حالانکہ اسلام میں لڑکی اپنے الگ گھر کا مطالبہ بطور شرعی حق کر سکتی ہے
ماں باپ کے گھر میں جو لڑکی سر درد برداشت نہیں کر سکتی وہ سسرال میں بڑی سے بڑی تکلیف برداشت کرلیتی ہے اور تکلیف سہتی وہ اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ ماں باپ کے گھر کی وہ نرم و نازک لڑکی کہیں مر ہی جاتی ہے۔
جب کوئی لڑکی ایک دم خاموش ہو جائے تو سمجھ جانا چاہئے کہ وہ اپنا درد چھپا تے چھپا تے بہت تھک چکی ہے۔وہ لڑکیاں دل کی صاف ہوتی ہیں جن کی آنکھوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر آنسو آجاتے ہیں۔
ہر لڑکی چاہتی ہے کہ اس کو عزت اور محبت ملے اس کےمیکے اور سسرال میں اور دعا ہے ہر لڑکی کی کہ یہ خواہش پوری ہو۔
تم لڑکی ذات جو ٹھہری تمہیں یہ زیب دیتا ہے کہ جب دنیا ستائےتو عزت پر حرف آئے تو تیری سیرت بری کہہ کر تجھے کوئی رولائے تو محبت نام کا دھبہ تیرا دامن جلائے تو محبت سے مکر جانا ، حیا جانے سے بہتر ہے کسی لڑکی کا مر جانا۔
میں ایک خوددار لڑکی ہوں میں اک سمندر سی لڑکی ہوں میں اپنی دھن میں چلتی ہوں رشتے ناطے اپنے سارے میں دل کے قریب ہی رکھتی ہوں میں لوگوں کی باتوں کو اب دل سے نہیں لگاتی ہوں جو وقت ملے چند لمحوں کا تو خود میں ہی کھو جاتی ہوں محبت کے تقاضوں کو میں دل سے پورا کرتی ہوں جو دل سے اتر جائے تو اسے خود سے دور ہی رکھتی ہوں تنہائی کی ساتھی ہوں میں اکثر تنہا ہی رہتی ہوں شوروغل سے اکثر میں کتراتی ہی رہتی ہوں اگر دل جو ٹوٹ جائے تو میں خود ہی جوڑ لیتی ہوں درد لیے نہیں پھرتی کیونکہ میں ایک خوددار لڑکی ہوں۔
اردو سینٹر پلس

About admin

Check Also

Sunday I Itni GumSum Lion Hai ?

زندگی اتنی گم صم کیوں ہے؟؟؟ کبھی کبھی انسان اپنی ذات سے ہی تنگ آ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *