Home / Motivational Quotes / Jantey Hu Aziyat Kia Huti Hai?

Jantey Hu Aziyat Kia Huti Hai?

جانتے ہو اذیت کیا ہے؟ جب دل بار بار پچھلے راستوں کی طرف پلٹنے کو سر پٹخ رہا ہو ،اور ہماری حالت ایسی ہو: سختی سے آنکھیں نیچے ،مٹھیاں بھینچے، دل کو سمجھانے کی کوششوں میں ہوں کہ نہیں رک جا ،صبر کر ،بگڑ مت ،سدھر جا، مجھے پھر سے نہ آزما ،آگے بڑھ، چلا جا ،جا چلا جا ،ان راستوں میں کچھ نہیں رکھا، کچھ نہیں رکھا ان راستوں میں ،ضد نہ کر پلٹنے کی، پرانے راستوں پر پلٹنے سے کوئی مل تو نہیں جاتا نہ، یہ ہوتی ہے اذیت۔۔۔
کتنی تکلیف ہوتی ہے نہ جب آپ کو فرصتوں میں یاد کیا جائے ،لیکن اصل اذیت اس سے پوچھو جسے فرصتوں میں بھی کوئی یاد نہیں کرتا ،اور اس سے بھی بڑی اذیت ایک اور ہوتی ہے ،پتہ ہے کیا ؟جب آپ کسی کو یاد کروانے پر بھی یاد نہیں آتے۔
جن کے دل حساس ہوتے ہیں ان کے آنسو کبھی بھی ضبط کے ہاتھ نہیں آتے، وہ ہمیشہ برداشت کی حد توڑ کے، آنکھوں کی دہلیزیں پار کر جاتے ہیں، دل کیوں حساس ہوتے ہیں؟ کیونکہ وہ ٹوٹ جانے کے بعد اپنی طاقت کھو چکے ہوتے ہیں ،پھر بات بے بات بھر آتی ہیں آنکھیں ،پھر عام لوگوں کی طرح مذاق طنز اور تکرار نہیں سہی جاتی۔
جدائی مسئلوں کا حل نہیں ہے، لیکن پھر بھی جدا ہونا پڑتا ہے، اس لئے نہیں کہ ہم ایسا چاہتے ہیں ،بلکہ اس لئے کہ اگلے کی خوشی ہم نہیں ہوتے اور یقین کریں بے حد اذیت کی بات ہے کہ جو انسان ہماری پوری زندگی کی خوشیوں سے بڑھ کر ہمارے لیے ہے ،اس کی خوشی ہم نہیں ہیں ،اس کا سکون ہم نہیں، اس کی زندگی میں ہماری کوئی جگہ نہیں۔
جب اندر کہیں گہری چوٹ لگتی ہے تو دل کے ساتھ جو چیز زخمی ہوتی ہے وہ زبان ہوتی ہے، اور زخمی زبان اپاہج ہو جاتی ہے، یا پھر زہر اگلنے لگتی ہے، اندر کی تلخی لفظوں میں سرایت کرجاتی ہے، بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو چوٹ کھانے کے بعد بھی اپنے الفاظ کو پھولوں کا پہناوا پہناتے ہیں ،ایسے لوگ بہت انمول ہوتے ہیں اور نایاب بھی۔
خوش قسمتی یہ نہیں ہوتی کہ آپ کی زندگی میں کوئی دکھ نہ آئے ،ایسا تو ممکن ہی نہیں خوش قسمتی جانتے ہیں کیا ہے؟ خوش قسمتی یہ ہے کہ جب بھی کوئی دکھ ملے ایک کندھا ہو جس پر سر رکھ کے ہم رو سکیں ،ایک انسان ہو جس کے سامنے اپنی رام کہانی بیان کر سکیں ،اور ایک رشتہ ہو جو ہمارے ساتھ ساتھ خود بھی آنسو بہاتے ہوئے ہمیں سینے سے لگا لے۔
ہر چیز کو اپنے اوپر سوار نہیں کرتے ،کسی بھی بات کو اس طرح اپنے اوپر حاوی کر لینا ہم سے ہماری مسکراہٹ چھین لیتا ہے، ماضی میں رہنا چھوڑ دیں ۔ہم مسکرانا چھوڑ دیں گے تو کیا ہم پہچان کر سکیں گے ؟غموں کو چھپا کے مسکرانا بھی ایک آرٹ ہے، اللہ نے ہمیں پورا پورا حق دیا ہے مسکرانے کا ،مشکلات کو مسکراہٹ کے بیچ مت لائیے۔
وقت اور چوٹیں انسان کو پتھر بنا دیتی ہیں اور وہ اپنے ہاتھوں سے وہ دروازہ خود بند کرتا ہے جو اس کے لئے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا تھا ،اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حبس سے مر جائے گا مگر ایک ہی بار کی موت بار بار کے مرنے سے کہیں بہتر ہے۔
کچھ درد چاہ کر بھی تحریر میں نہیں لائے جا سکتے، چاہے لاکھ جتن کر لیے جائیں، مگر یہ جو لکھاری کا قلم ہوتا ہے نا یہ ہر درد کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ،اس کے لیے دل کی ضرورت پیش آتی ہے، کچھ غم صرف سینے میں دفن ہونے کے لیے پیدا ہوتے ہیں ان کا مداوا ہو ہی نہیں سکتا۔
اردو سینٹڑ پلس

About admin

Check Also

Dukhti Rug

Dukhti Rug    

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *