Home / Urdu Poetry / Pardes Ke Dukh

Pardes Ke Dukh

جو گھر سے دور ہوتے ہیں
بہت مجبور ہوتے ہیں
کبھی باغوں میں سوتے ہیں
کبھی چھپ چھپ کے روتے ہیں
گھروں کو یاد کرتے ہیں
تو پھر فریاد کرتے ہیں
مگر جو بے سہارا ہوں
گھروں سے بے کنارہ ہوں
انہیں گھر کون دیتا ہے
یہ خطرہ کون لیتا ہے
بڑی مشکل سے اک کمرہ
جہاں کوئی نہ ہو رہتا
نگر سے پار ملتا ہے
بہت بے کار ملتا ہے
تو پھر دو تین ہم جیسے
ملا لیتے ہیں سب پیسے
اور آپس میں یہ کہتے ہیں
کہ مل جل کر ہی رہتے ہیں
کوئی کھانا بنائے گا
کوئی جھاڑو لگائے گا
کوئی دھوئے گا سب کپڑے
تو رہ لیں گے بڑے سکھ سے
مگر گرمی بھری راتیں
تپش آلود سوغاتیں
اور اوپر سے عجب کمرہ
گھٹن اور حبس کا پہرہ
تھکن سے چور ہوتے ہیں
سکوں سے دور ہوتے ہیں
بہت جی چاہتا ہے
ماں کو بھیج دے یا ربّ
ماں کو بھیج دے یا ربّ
جو اپنی گود میں لے کر
ہمیں ٹھنڈی ہوا دے کر
سلا دے نیند کچھ ایسی
کہ ٹوٹے نہ پھر اک پل بھی
مگر کچھ بھی نہیں ہوتا
کچھ بھی نہیں ہوتا
کچھ بھی نہیں ہوتا تو کر لیتے ہیں سمجھوتا
کوئی دل میں بلکتا ہے
کوئی پہروں سلگتا ہے
جب اپنا کام کر کے ہم پلٹتے ہیں
تو آنکھیں نم مکاں ویران ملتا ہے
بہت بے جان ملتا ہے
خوشی معدوم رہتی ہے
فضا مغموم رہتی ہے
بڑے رنجور کیوں نہ ہوں
بڑے مجبور کیوں نہ ہوں
اوائل میں مہینے کے
سب اپنے خوں پسینے کے
جو پیسے جوڑ لیتے ہیں
گھروں کو بھیج دیتے ہیں
اور اپنے خط میں لکھتے ہیں
ہم اپنا دھیان رکھتے ہیں
بڑی خوش بخت گھڑیاں ہیں
یہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں
بڑی خوش بخت گھڑیاں ہیں
یہاں خوشیاں ہی خوشیاں
جو گھر سے دور ہوتے ہیں
بہت مجبور ہوتے ہیں
بہت مجبور ہوتے ہیں
جو گھر سے دور ہوتے ہیں
اردو سینٹر پلس

About admin

Check Also

Sunday I Itni GumSum Lion Hai ?

زندگی اتنی گم صم کیوں ہے؟؟؟ کبھی کبھی انسان اپنی ذات سے ہی تنگ آ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *