Home / Motivational Quotes / Badshah Ke 3 Sawaloon Ka Jawab Ek Faqeer Hi De Saka..

Badshah Ke 3 Sawaloon Ka Jawab Ek Faqeer Hi De Saka..

ایک دفعہ ایک بادشاہ نے اپنی وزیر سے تین سوال پوچھے پہلا سوال غرض کیا ہے دوسرا سوال دھوکہ کیا ہے اور پھر پورا تیسرا سوال انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے بادشاہ کا موڈ اچھا تھا وہ نوجوان وزیر کی طرف دوڑا اور مسکرا کر پوچھا تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے وزیر نے شرم سعے اآنکھیں نیچی کر لیں اور بولا خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر اس کا حصہ میرا ہوتا تو دنیا کا خوش نصیب شخص ہوتا تمہیں دیکھا اور عاجزی سے بولا میں اتنا خوش قسمت کیسی ہو سکتا ہے اس کو بلایا اور اسے تو ایک عبارت لکھنے کا حکم دیا بادشاہ نے حکم کے ذریعے اپنی شادی سینٹر نوجوان نظیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کردیا دیا اور دوسرے مقامی بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دیا دونوں ایک کمانڈر مارا گیا بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائیں اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تمہارے پاس ہیں ان میں ان دنوں میں صرف تین سوالوں کے جوابات تلاش کرنا ہے ان کامیاب ہوگئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا اور تمہیں آدھی سلطنت میں جائے گی اور اگر تم ناکام ہوگئے تو پہلا حکم ہی جائے گا اور دوسرے حکم کے مطابق تمہارا سر کٹا دیا جائے گا گا نے اس سے فرمایا تین سوال کو مزید لکھنا شروع کر دیا بادشاہ نے کہا انسان کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے ہے دوسرا سامان انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ کیا ہے ہے تیسرا سوال انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے ہے بادشاہ نے اس کے بعد لگائے پر چوٹ لگائی اور باآواز بلند فرمایا تمہارا وقت شروع ہوتا ہے اور دربار سے دوڑ لگا دی اس نے اس ملک بھر کے دانشور ادیب مفکر اور ذہین لوگ جمع کئے اور سوال ان کے سامنے رکھ دیے ملک کے دانشور ساری رات بحث کرتے ہیں لیکن وہ پہلے ہی سوال کے جواب پر متفق نہ ہو سکے کے وزیر نے دوسرے دن کا نقش اور بڑھا دیے لیکن نتیجہ وہی نکلا وہ آنے والے دنوں میں لوگ طرح طرح مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا یہاں تک کہ وہ مایوس ہو کر حکومت سے باہر نکل گیا اور سوال اٹھا کے پورے ملک میں پھیلا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا وہ مارا مارا پھرتا رہا شہر گاؤں کی خواہشات رہا صاحب نماز پڑھ گیا جھوٹے پڑ گئی اور پاؤں میں چھالے پڑ گئی یہاں تک کہ شرک کا آخری دن آگیا دربار میں بھی جاناتھا وزیر کو یقین تھا یہ اس کی زندگی کا آخری دن ہے ہے اگر اسکی گردن کاٹ دی جائے گی اور جسم دیا جائے گا حکومت کی موجودہ آبادی کے پر اس تک پہنچ گیا نہ تھا مشرف کی آواز میں تو دیا ہے نہ پہنچے ہیں آپ کے سوالوں کے جوابات کی طرف دیکھا اور پوچھا کے لیے کون ہے اور میرا مسئلہ کیا ہے فقیر نے سوکھی ہوئی تھی کہ کے کپڑے رکھے مسکرایا اپنا بوجھ اٹھایا اور وزیر سے کہا یہ دیکھیے آپ کی بات سمجھ میں آجائے گی جھک کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہے کہ شاہی خاندان بھیج دیں باز جو بادشاہ اپنے قریب ترین وزراءکو عنایت کرتا تھا اور کہا جناب عالی میں بھی اسی سلطنت کا وزیر ہوتا تھا ابھی بھی ایک بار بادشاہ سے شرط لگانے کی غلطی کی تھی نتیجہ آپ کو دیکھ لیجیے اس کا ٹکڑا اٹھایا اور دوبارہ پانی میں بھگو کر کھانے لگا وزیر سے پوچھا نہیں کرسکے گی اور یہ بھی کہ لگائیں اور حساب سے مختلف تھا میں نے جواب دولہے کا پروانہ بڑا بادشاہ کو سلام کیا اور اس گھٹیا میں آکر بیٹھ گیا اور میرا کتا دو منٹ میں زندگی گزار رہے ہیں یہ سابق وزیر کی ہوا کرکے تحصیل کارکن ہیں تھا جواب معلوم کرنے کی گھڑی تھی اور سننے کی بجائے فرار بن گیا اور فقیر سے پوچھا اچھا کیا آپ مجھے سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں فقیر نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا اہلیتوں سوالوں کے جواب مختوم کا لیکن تیسری جماعت کے لئے تونے قیمت ادا کرنی ہوگی وزیر کے پاس اور کوئی آپشن نہ تھا اس نے گردن ہلا دی دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے ایسے نہیں بن سکتا اور گا اور پھر بولا انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے ہم اسے ہر شخص زندگی کو دائمی سمجھ کر اس دھوکے میں آ جاتے ہیں جو ناقابل تردید تھی وزیر سرشار ہوگیا اس نے اپنے جواب کے لئے باقی اسے شرقپور کیا بنایا مسجد کے سامنے رکھا ہو رہا ہے سوال کا جواب اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک آپ لوگ نہیں دیتے اگر پسند آ گیا اس سے پیارا زمین پر رکھ دیا اور کتے کا جھوٹا دودھ نہیں کیا جاتا تھا اور کہا آپ کے پاس دو راستے ہیں انکار کردوں کل تمہارا سر پھاڑ دے گا مجھے آدھا پاؤ ٹوٹ بھی جاؤں اور تمہاری زندگی بچائی تھی اور تو وہاں جاناں پریشانی میں بس گیا اور جھوٹا تو تھا وہ سوچتا رہا یہاں تک کہ جمال جیت لیا اور سیکولر سٹیٹ ہارگئی میں پیالہ اٹھایا اور کیا لگایا اور بولا میری بچی کی سب سے بڑی کمزوری آغاز ہوتی ہیں یہاں سے کتے کا جھوٹا پینے تک مشہور کر دیتی ہے یہ وہ سچ ہے جس نے مجھے سلطنت کا پروانہ وار کر اس میں بیٹھنے پر مجبور کر دیا تھا تھا میں جان گیا تھا کہ میں جھوٹا ہوں کے میں آؤں گا میں بہت کی سچائی کو فراموش کرتا جاؤں گا میں بہت ہوں جتنا فراموش کرتا رہونگا میں اتنا ہی غربت کی دلدل میں دھنستا جاؤں گا اور مجھے روس کا صدر میں سانس لینے کے لئے غرض کاغذی زور دینا پڑے گا لہذا میرا مشورہ ہے کہ زندگی کی حقیقت کو جان لوں تمہاری زندگی اچھی گزرے گی وزیر تجارت شرمندگی اور خود عیسی کا تحفہ لے کر نکلا اور محل کی طرف چل پڑا وہ جو محل کے قریب پہنچ رہا تھا اس کے احساس اور شرمندگی میں اضافہ ہورہا تھا اس کے اندر کا احساس بڑھ رہا تھا اس اعزاز کے ساتھ مل کے دروازے پر پہنچا اس نے خوفناک چیز کی اور لمبی چھڑی لیں اور اس کی روح پرواز کر گئی کسی ٹھنڈی جگہ پر بیٹھ کر زندگی کی ان بنیادی سوالوں پر ضرور غور کرنا چاہیے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کو فراموش کرکے تو نہیں بیٹھے گی اب تو نہیں بن گئی مجھے یقین ہے کہ ہم لیا عثمان غنی ستاروں سے دور ہو جائیں گے ..
اردو سینٹر پلس

About admin

Check Also

Dukhti Rug

Dukhti Rug    

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *