Home / Urdu Poetry / MAAN NE POOCHA RAAT KE IS PEHR BAHIR BETHI KIA KER RAHI HU ?

MAAN NE POOCHA RAAT KE IS PEHR BAHIR BETHI KIA KER RAHI HU ?

رات کے اس پہر باہر اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟ کچھ نہیں اماں پر دل بوجھل سا ہے نیند نہیں آ رہی، کیا ہوا میری شہزادی کو؟ اماں ایک بات پوچھوں ؟ جی میری بیٹی اماں کبھی کبھی دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کیوں ہوجاتی ہیں؟ ایسا کیوں لگتا ہے جیسے دل میں دھڑکنیں بکھری پڑی ہوں، بیٹی یہ جو دل ہے نہ یہ رب سوہنے کا حجرہ ہے جب اس دل میں اس کے مالک کی بجائے کوئی کرائے دار آ کے رہنے لگ جائے تووہ کرایےدار اس کا خیال نہیں رکھتا اس ھجرے میں پڑی چیزوں کو ترتیب سے نہیں رکھتا اس کی مرمت نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ میں اس میں چند دن کا مہمان ہوں جیسے ہی مجھے اس سے بہتر جگہ ملے گی میں وہاں منتقل ہو جاؤں گا لیکن پتر جو مالک ہوتا ہے نا وہ مکان کبھی نہیں چھوڑتا چاہے جتنا بوسیدہ جتنا ٹوٹا پھوٹا کیوں نہ ہو وہ اس میں رکھی تمام چیزوں کو نہایت سلیقے کے ساتھ رکھتا ہے اس کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتا ہے اور پتر یہ بس اسی سوہنے رب کی شان ہے جو ٹوٹے دلوں میں رہتا بھی ہے اور اسے جوڑتا بھی ہے۔
ایک مصور کو کہا گیا کہ وہ دل کے دروازے کی تصویر بنائے اس نے بہت حسین دل بنایا اور اس میں خوبصورت سا دروازہ بھی بنایا لیکن اس کا ہینڈل نہیں تھا کسی نے پوچھا کہ اس میں ہینڈل کیوں نہیں لگایا اس پر اس مصور نے بڑا خوبصورت جواب دیا اور کہا کہ دل کے دروازے اندر سے کھلتے ہیں باہر سے نہیں۔
وقت نہیں رکتا لیکن کہیں نہ کہیں ہم رک جاتے ہیں سرخ اینٹوں سے بنے کسی آنگن میں۔ کہیں باورچی خانے میں چولہے کے پاس دھری پیڑھی پر، کسی چھت پر لیٹے تارے گنتے، ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب لمحے ہمیں قید کرلیتے ہیں، کوئی چائے کی پیالی ایسی ہوتی ہے جس کا ذائقہ زبان کبھی بھول نہیں پاتی، کوئی سرگوشی کوئی مہک کوئی قہقہ کوئی آنسو کوئی سناٹا، تمام عمر کے لیے زندگی پر حاوی ہو جاتا ہے پرانی یادوں پر نئی یادیں سجانہ درحقیقت ایک مشکل امر ہے جبھی تو ہم تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی مسکراتی ہوئی پاس سے گزر جاتی ہے۔

مکڑی کا گھر سب سے کمزور ہوتا ہے اس کی مثال قرآن مجید میں بھی دی گئی ہے اگر غور کیا جائے تو واقعی ایسا ہی ہے نر اور مادہ اکٹھے رہتے ہیں جب مادہ کے ہاں بچے جنم لیتے ہیں تو وہ اپنے نرکو مار دیتی ہے جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ ماں کو مار کر گھر سے باہر پھینک دیتے ہیں یہ ان کی فطرت ہے کہ ان کے دل تنگ ہے جو ایک دوسرے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تو مار دیتے ہیں دنیا کی مثال بھی ایسی ہی ہے ، ہمارے گھروں میں انا کا راج ہے ایک دوسرے کے یوں دل توڑ ےجاتے ہیں کہ ایک دوسرے کو کہہ دیا جاتا ہے کہ میں تمہارے لئے تم میرے لیے مر گئے ہم انسانوں کو تو محبت و خلوص اور دل میں کشادگی پیدا کرنی چاہیے اتنا دل چھوٹا نہیں کرنا چاہئے کہ دوسرے کے لئے جگہ ہی نہ ہو.
حد سے زیادہ پرواہ کرنے والوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں آتا نہ رشتوں کی مٹھاس نہ ان کا احساس بس ایک ذہنی فریب سامنے رہتا ہے کہ وہ بھی ہمیں ویسا ہی چاہتے ہیں لیکن حقیقت بڑی ہی دلخراش ہوتی ہے۔

مینڈک کو چاہے سونے کی بنی کرسی پر ہی بٹھا دی پر وہ چھلانگ لگا کر واپس دل میں ہی جانا پسند کرتا ہے پس اسی طرح کہ کچھ انسان ہوتے ہیں ان کو آپ جتنی مرضی عزت دی پر انہوں نے اپنے سلوک اخلاق اپنے برتاؤ سے اپنے آپ کو کم ظرف کرکے ہی رہنا ہوتا ہے.
باقی مخلوق زیادہ سے زیادہ آپ کے جسم کو گھائل کر سکتی ہے لیکن روح کو زخم دینے کا فن فقط انسان کے پاس ہے۔
بے وفائی کا تعلق جنس سے نہیں ہوتا یہ تو انسان کی فطرت کی بات ہوتی ہے اور ضمیر کی جو بے وفائی کرکے بھی مطمئن ہوتے ہیں میں نے مرد کو ایک عورت کے لیے روتے تڑپتے بھی دیکھا ہے اور ایک مرد کو دس عورتوں کو برباد کرتے ہوئے بھی، میں نے عورت کی محبت کی انتہا بھی دیکھی اور عورت کو مردوں سے کھیلتے ہوئے بھی ساری بات فطرت کی ہوتی ہے مرد اور عورت ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔

اگر کسی کے جانے سے آپ کا دل دکھا ہے تو اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ آپ کے جذبات اس کے لئے سچے تھے ملاوٹ اس میں تھی آپ نے نہیں میں جانتی ہوں کہ کوئی بھی جدا ہونے کا درد سہنا پسند نہیں کرتا مگر حقیقت یہ ہے کہ ضروری نہیں جو ساتھ چلنا شروع کرے وہ ہمیشہ ہی آپ کے ساتھ چلتا رہے مطلبی ملاوٹی لوگ اپنا موڑ آنے پر مڑ جاتے ہیں اور مڑ کر بھی نہیں دیکھتے کہ جسے چھوڑا ہے وہ کہاں گیا ہے ؟ کچھ لوگ جہاں کوئی انہیں چھوڑ کر گیا ہوں وہیں پڑے رہتے ہیں اس خواہش میں کہ شاید چھوڑنے والا پلٹ آئے، پڑے رہنے سے بھلا کوئی کہاں پلٹ کر آتا ہے۔
لوگ بدلتے نہیں ہیں بس ہوتا صرف اتنا ہے کہ یا تو آپ میں ان کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے یا پھر آپ سے زیادہ دلچسپ کوئی اور ان کو مل جاتا ہے۔
وضاحتیں ہمیشہ غلطیوں کی نہیں دی جاتی اکثر اپنے مزاج کے خلاف جا کے وضاحت اس لیے بھی دی جاتی ہے کیونکہ سامنے والا ہمیں عزیز ہوتا ہے اور بوجھ ہمیشہ غلطیوں کے نہیں ہوتے چاہتیں بھی بہت بھاری ہوتی ہے۔

اکیلے بیٹھ کر خود سے سوال کریں کہ آپ کے مرنے پر کتنے لوگوں کی زندگیوں پر فرق پڑے گا جن لوگوں کو فرق پڑے گا ان کا خیال رکھیں اور کوشش کریں کہ ان کے لیے آپ کے بعد آسانی ہو اور باقی لوگوں کی فکر چھوڑ دیں۔
بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے جواب میں صرف ٹھیک ہے کہ علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے حالانکہ وہ کسی بھی طرح ٹھیک نہیں ہوتیں
ہر ایک کا دل اور اس کے ارمان مختلف ہوتے ہیں اور دل ایسی چیز ہے کہ اگر اس کے ارمان پورے نہ ہو تو اس کے آگے دنیا کی نعمتوں کے انبار بھی لگا تو تب بھی خوش نہیں ہوتا.
عاجزی کی ایک حد ہوتی ہے جب انسان اس حد سے گزر جائے تو انسان کی توہین اور ذلت کا سبب بن جاتی ہے اور انسان کو ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جو اس کی توہین اور ذلت کا سبب ہو اس لئے عاجزی کے معاملات اور اس کی کیفیت میں پورے طور پر درمیانی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں زندگی موت سے زیادہ ازیت دیتی ہے ،میں حیران ہوں موت سے پہلے لوگ موت کی اذیت کیا ہے کیسے جان لیتے ہیں پتہ نہیں لوگ یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کی زندگی کی کتاب ان کی برداشت کی طاقت سے زیادہ تلخ نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کو اس نے لکھا ہے جو ان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔
جب جب دل ٹوٹتا ہے شکر کہو کیونکہ اسے ٹوٹنا ہی تھا دل ٹوٹے گا نہیں تو تمہارا نیا وجود باہر کیسے نکلے گا؟ اس کا مقصد تمھاری ذات کو ہلا دینا ہے، تمہیں تمہاری رکاوٹ دکھانا اور تمہارے نشے سے چھٹکارا۔۔۔ ہاں کچھ وجودوں کا نشہ، جن کے تم عادی ہونے لگتے ہو، تو ان کی بدولت تمہارا دل زخمی کیا جاتا ہے تاکہ ان کے سائے کا اندھیرا چھٹ سکے اور تمہارے اندر صاف روشنی داخل ہوجائے، تمہیں کبھی کبھار اتنا مایوس کردیا جاتا ہے کہ تم اٹھ کھڑے ہوتے ہو اور ایک اچانک فیصلہ کرتے ہو جو تم عام سازگار حالات میں نہ کرتے تھے، تو دل ٹوٹتا ہے تو شکر کہو.

میں تمہیں بتاؤں محبت کبھی ختم نہیں ہوتی لیکن جب کسی کی محبت کے بدلے ہم اسے بے رخی دیں تو آخر وہ کب تک اس درد میں جیے؟ کیا اس نے ہم سے محبت اس لئے کی تھی کہ ہم اس کے دکھ سمیٹنے کی بجائے غموں کا سمندر تحفے میں دیں؟ ہر وقت اسے اپنی بے رخی سے زخمی کریں، وہ ہمیں اپنا ہمدرد بناتا ہے اور ہم ہی اس کا درد بن جاتے ہیں اور ایک بات یاد رکھنا سچی محبت بھی اللہ صرف ایک ہی بار دیتے ہیں اب چاہے تو اس محبت کو اپنا کر زندگی خوب صورت جنت جیسی بنا لو، چاہے تو اسے اپنی بے رخی سے کھو کر ساری زندگی محبت کو ترستے رہو، لیکن جب کوئی ہم سے سچی محبت کرتا ہے چیختا ہے چلاتا ہے بتاتا ہے کہ تم میری دنیا ہو میری جنت ہو تب ہمیں اس کی قدر تک نہیں ہوتی اور پھر جب وہ چیخ چیخ کر خاموش ہو جاتا ہے تب ہمیں احساس ہوتا ہے لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے، ہاں بہت دیر، اور اگر دیر نہیں ہوئی تو ایسے شخص کو اپنے دل میں بسا لو اسے خوشیاں دو اس کے ہو جاؤ، ہاں پھر زندگی جنت بنتی دیکھو جنت، ہاں جنت۔۔۔
اردو سینٹر پلس

About admin

Check Also

Pardes Ke Dukh

جو گھر سے دور ہوتے ہیں بہت مجبور ہوتے ہیں کبھی باغوں میں سوتے ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *