Home / Motivational Quotes / Zakhmi Dil

Zakhmi Dil

پتا ہے سب سے زیادہ دل کو زخمی کیا چیز کرتی ہے؟ مانوس لہجوں کا بدل جانا جانا، پہچانی نگاہوں کا پھر جانا، اپنائیت کواجنبیت کا سفر طے کرتے دیکھنا۔۔۔
جو لوگ دوسروں کے دلوں کو کانٹوں سے زخمی کرتے ہیں ان کے اپنے اندر کیکر اگے ہوتے ہیں، وہ چاہیں نہ چاہیں انکے وجود کو کانٹا ہی بنا ہوتا ہے وہ پھول نہیں بن سکتے۔
انسان ٹھوکر کھائے بغیر، زخم کھائے بغیر، خود کو جلائے بغیر ،بات کیوں نہیں مانتا ؟پہلی دفعہ میں ہی ہاں کیوں نہیں کہتا ؟پہلے حکم پر سر کیوں نہیں جھکاتا ؟ہم سب کو آخر منہ کے بل گرنے کا انتظار کیوں رہتا ہے اور گرنے کے بعد ہی بات کیوں سمجھ میں آتی ہے؟
زخم کھانا بڑی بات نہیں زخم کھا کر مسکرانا بڑی بات ہے۔اکثر لوگ جو بہت ہنستے ہیں وہی زخموں سے چور ہوتے ہیں اگر یقین نہ آئے تو کسی سے پوچھ کر ہی دیکھ لیں
بہت تکلیف دیتا ہے وہ زخم جو بنا قصور کے ملاہو۔
کسی کے جذبات کو چوٹ دے کر اتنا زخمی نہ کرو،کہ آپ کا خیال جب بھی آئے تو اسے تکلیف ہی ہو۔
خنجر ،تیر اور تلوار لڑتے ہی رہتے ہیں کہ کون زیادہ زخم گہرا دیتا ہے اور الفاظ پیچھے بیٹھ کر مسکرا رہے ہوتے ہیں۔تلوار سے لگایا ہوا زخم تو بھر سکتا ہے لیکن زبان کا لگایا ہوا زخم کبھی نہیں بھرتا۔
لفظوں کے دانت نہیں ہوتے مگر یہ کاٹ لیتے ہیں اور اگر یہ کاٹ لیں تو ان کے زخم کبھی نہیں بھرتے۔
آپ کا ایک لفظ زخم بھی لگا سکتا ہے اور مرہم بھی بن سکتا ہے اب اختیار آپ کے پاس ہے کہ آپ اپنے الفاظ کا چناؤ زخم دینے کے لئے کرتے ہیں یا مرہم لگانے کے لیے۔
جسم کی چوٹ تو وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجاتی ہے لیکن لفظوں کے زخم کبھی نہیں بھرتے۔
تلوار کا زخم جسم پر ہوتا ہے اور بری گفتگو روح کو زخمی کرتی ہے،اکثر وہ زخم جو دِکھتے نہیں ہیں وہی بہت دُکھتے ہیں۔
اس دنیا میں کسی سے بھی ہمدردی کی امید نہیں کرنی چاہیے کیونکہ شدت سے چاہنے والے لوگ ہی بہت پیار سے زخم دیتے ہیں۔
اس زخم کو بھرنے میں بہت دیر لگتی ہے جس زخم میں اپنوں کی عنایت شامل ہو۔
کچھ لوگ زخم دیتے ہیں اور پھر مرہم رکھنے کے بہانے قریب آکر ناصرف نمک پاشی کرتے ہیں بلکہ تڑپتا دیکھ کر محظوظ بھی ہوتے ہیں اللہ ہی بچائے ایسے لوگوں سے۔
کچھ لوگ زخم دے کر پوچھتے ہیں کہ درد کی شدت کیا ہے انہیں کیا معلوم درد تو درد ہے تھوڑا کیا اور زیادہ کیا۔
اکثر لوگ بہت ہی چالاکی سے اپنا پن دکھا کر آپ کی دل کی کتاب پر لکھے تمام واقعات پڑھ لیتے ہیں۔میں کہتی ہوں دنیا داروں پر اپنے دکھ مت ظاہر کرو کیونکہ یہ وہاں چوٹ ضرور لگاتے ہیں جہاں پہلے سے زخم ہوتا ہے۔
کہتے ہیں وقت ہر زخم کا مرہم ہے لیکن زندگی کچھ زخم ایسے دیتی ہے جو صدیوں بعد بھی تازہ ہیں رہتے ہیں جو کہ وقت کے پاس بھی ہر مرض کی دوا نہیں ہوتی۔
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے، بس انسان وقت کے ساتھ ان کو چھپانے کا سلیقہ سیکھ جاتا ہے۔زخم وہی ہوتا ہے جو چھپا لیا جائے ورنہ آج کل کے دور میں جو زخم بتا دیا جائے وہی تماشہ بن جاتا ہے۔
کبھی کبھی چوٹ لگنا بہت ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ زخم جیسا کوئی استاد نہیں ہوتا۔وہ انسان ہمیشہ خزاں کی قدر کرتا ہے جس نے بہار میں زخم کھائے ہوں۔
کسی کے درد کی دوا بنو کیونکہ زخم تو ہر انسان دیتا ہے۔
سچے درد سچی محبت میں انسان جھوٹے خدا سے نہیں بہل سکتا سچا زخم کا مرہم، سچی محبت کا سچا محرم ،فقط رب ہی ہے۔ ہر زخم کا مرہم ہوجائے، جب اللہ محرم ہوجائے۔
ہم اپنے اللہ کے کرشموں کو کبھی نہیں سمجھ سکتے، وہ عجیب ہے ،بہت آزماتا ہے، آخری حد تک لے جاتا ہے اور پھر ایک دم سے کچھ ایسا کر دیتا ہے کہ تمام زخم ایک ساتھ بھر جاتے ہیں، یاد ہی نہیں رہتا کہ تکلیف کیا تھی؟
یہ جگر کے زخم ہی ہوتے ہیں جو داستان میں رنگ بھرتے ہیں ورنہ لفظ لکھنے سے کہاں تحریر بنتی ہے
اردو سینٹر پلس

About admin

Check Also

Dukhti Rug

Dukhti Rug    

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *