Home / Motivational Quotes / Gham Dukh aur Takleef

Gham Dukh aur Takleef

غم ایسی ماں ہے جو دو بچوں کو جنم دیتی ہے ۔ ایک بچہ خوشی اور دوسرا بچہ مایوسی۔ ایک بچہ آپ کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے اور وہ بچہ ہے خوشی، اس چیز کی خوشی کہ آپ اللہ کی طرف سے غم کیلئے چنے گئے ہیں۔ اور دوسرا بچہ مایوسی ، یہ وہ ہے جو آپ کو اللہ سے دور کر دیتا ہے ۔ اور یہ بچہ سراپاءکفر قرار دیا گیا ہے ، یہ وقت توبہ کا ہوتا ہے۔

غم کی بڑی کاروائی یہ ہے کہ غم تمہیں بہت ہی نرم کر دیتا ہے۔ اگر غم نہ ہوں تو انسان پتھر ہی رہتا۔

اپنا غم ہر کسی کو مت بتائیں کیونکہ مرہم ہر گھر میں ہو نہ ہونمک ہر گھر میں ضرور ہوتا ہے۔

غم اور مشکلات صرف اللہ کو بتایا کرو اس یقین کے ساتھ کہ وہ تمہیں جوب بھی دے گا اور تمہاری تکلیف بھی دور کرے گا۔

غم کا ملنا بدقسمتی نہیں ہے اور خوشی کا ملنا خوش قسمتی نہیں ہے۔

زندگی کے آدھے غم انسان دوسروں سے امیدیں لگا کر خریدتا ہے۔

دیکھیں غم اتنا شدید نہیں ہوتالیکن جب کوئی غم بانٹنے والا نہ ہو، جب کوئی آپ کی بات نہ سنے، تو غم میں ایسی شدت آ جاتی ہےکہ غم کے جھکڑ انسان کو تنکوں کی طرح بہا کر لے جاتے ہیں۔

شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں جو دوسروں کے غم سے لاتعلق ہے انسان کہلانے کا مستحق نہیں۔

خوشی انسان کو اُتنا نہیں سکھاتی جتنا غم سکھاتے ہیں۔

ہنستے چہرے کو دیکھ کر یہ نہ سوچناکہ اسے کوئی غم نہیں، یہ سمجھنا کہ اس میں غم سہنے کی کتنی ہمت ہے۔

ہنستے رہنا بھی بھی کیا مصیبت ہے سب سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی غم نہیں۔

جن لوگوں کو آپ کی موت کا غم ہو سکتا ہے ان کو زندگی میں خوشی ضرور دینا۔
عبادت وہاں نہیں پہنچاتی جہاں غم پہنچاتا ہے۔

دوسروں کی خوشی اپنے غموں کو تازہ کرتی ہے اور غم اپنے غموں کو ہلکا کرتا ہے۔
اگر خوش ہو تو آہستہ سے ہنسہ کرو تا کہ غم نہ جاگ جائے اور اگر غمگین ہو تو آہستی سے رویا کرو تاکہ آنے والی خوشی کہیں نااُمیدی میں نہ بدل جائے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دوستوں کے غم میں ہر حال میں شامل ہوا کرو لیکن خوشیوں میں تب تک نہ جانا جب تک وہ خود نہ بلائیں۔

دنیا کے فکر و غم سے دل میں تاریکی پیدا ہوتی ہے۔

موجودہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر انسان پر غم اور تکلیف کالمحہ آتا ہے مگر ایسے لمحات ہمیشہ وقتی ہوتے ہیں۔ اگر آدمی اس لمحے کو برداشت کر لے تو بہت جلد اسے معلوم ہوتا ہے کہ تاریک حال میں اس کے لیئے روشن مستقبل چھپا ہوا ہے۔

ہمارے غم، مسئلے اور پریشانیاں بھی راز ہوتی ہیں، ان کا دوسروں کے سامنے اشتہار نہیں لگاتے۔ جا انسان اپنے آنسو دوسروں سے صاف کرواتا ہے وہ خود کو بےعزت کر دیتا ہے۔ اور جو اپنے آنسو خود پونچھتا ہے وہ پہلے سے بھی مضبوط بن جاتا ہے۔
اردو سینٹر پلس

About admin

Check Also

Dukhti Rug

Dukhti Rug    

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *