Home / Motivational Quotes / Koi Kitna Be Himmat Wala Kion Na Hu Kabi Na Kabi Ek Insaan Ki Kammi Rula Deti Hai

Koi Kitna Be Himmat Wala Kion Na Hu Kabi Na Kabi Ek Insaan Ki Kammi Rula Deti Hai

کبھی کبھی شام کچھ اس طرح سے ڈھلتی ہے کہ ہمیں اپنے دل سمیت سب کچھ ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ہے ،زوال چاہے دن کا ہو یا کسی بھی عروج کا ہمیشہ اداس کر جاتا ہے۔
کوئی کتنا بھی ہمت والا کیوں نہ ہو کسی ایک خاص انسان کی کمی رلا دیتی ہے۔
کسی کی تذلیل کر کے آپ اس انسان کو کمتر نہیں بنا سکتے لیکن یہ عمل آپ کے ظرف کو کم تر بنا دیتا ہے۔
منفی لوگوں کو کہیں بھی کچھ مثبت نظر نہیں آتا ،جس وقت لوگ چاند کی چاندنی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں اس لمحے وہ اِس بات پر شکوہ کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ روشنی اس کی اپنی نہیں ہے۔
کون ،کب ،کس کا اور کتنا اپنا ہے یہ صرف وقت بتاتا ہے۔
زمین عقل مندوں سے تو بھر گئی ہے مگر درد مندوں سے خالی ہے۔
ہر شخص کی اپنی کہانی ہوتی ہے ،وہ ایسا کیوں ہے اس کی بھی کچھ نہ کچھ وجہ ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کسی کو پرکھنے سے پہلے اس کے حالات کا مکمل جائزہ لیا جائے۔
اکڑ تب تک چلتی ہے جب تک پکڑ نہیں ہوتی۔
جاہل انسان کو دلیل دینا اپنے آپ کو ذلیل کرنے کے برابر ہے۔
اپنی باتوں کو پانی کے قطروں سے زیادہ شفاف رکھو کیونکہ جس طرح قطرے سے دریا بنتا ہے اسی طرح باتوں سے کردار بنتا ہے۔
جو بہت اچھا لگے اسے بہت کم ملا کرو، جو انتہا سے زیادہ اچھا لگے اسے صرف دیکھا کرو ،اور جو دل میں سما جائے اسے صرف یاد کیا کرو، کیونکہ جو آپ کے جتنا قریب ہوتا ہے دنیا اسے اتنا ہی دور کر دیتی ہے۔
کبھی کبھی دل چاہتا ہے سب کہہ دوں سارا زہر اگل دوں مگر کچھ لحاظ رکھنے پڑتے ہیں اور یہ لحاظ مار دیتے ہیں۔
آپ جس کے ساتھ جتنا مخلص ہوں گے وہ آپ کو اتنا ہی زور دار تھپڑ مارے گا کہ آپ کی مخلصی بھی حیران رہ جائے گی۔
اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجئے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں برسنے سے اگتے ہیں۔
کسی نے ایک درویش سے پوچھا دنیا میں سب دکھی کیوں ہے درویش نے ہنس کر جواب دیا خوشی سب کے پاس ہے بس ایک کی خوشی دوسرے کا درد بن جاتی ہے۔
انسان کی لالچ کا پیالا کبھی نہیں بھرتا کیونکہ اس میں ناشکری کے سوراخ ہوتے ہیں جو اس کو بھرنے نہیں دیتے۔
بحث کے دوران جب کسی کا راز فاش ہونے کا ڈر ہو تو اپنی ہار مان لو کہ بحث میں تو پھر کبھی جیت جاؤ گے مگر راز خدا کی اور لوگوں کی امانت ہوتے ہیں، اعتبار ہار دیا تو کبھی کچھ جیت نہ پاؤ گے۔
درخت اپنے پھل خود نہیں کھاتے ،دریا خود اپنا پانی نہیں پیتے، کیونکہ دوسروں کے لیے جینا ہی اصل زندگی ہے۔
تاروں کو انسان تب تکتا ہے جب زمین پر اس کا کچھ کھو گیا ہو۔
جو لوگ جتنے میٹھے ہوتے ہیں زندگی اتنا ہی ان کا کڑوا امتحان لیتی ہے۔
زندگی میں ایک مقام ایسا آتا ہے جب کچھ بھی حاصل کرنے کی جستجو نہیں رہتی مگر کھونے کا حوصلہ بہت ہوتا ہے، کوئی ساتھ دے نا دے پروا ہی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس مقام سے آگے لوگوں کا وجود لا وجود ہو جاتا ہے ،ختم ہوجاتی ہے چاہے جانےاور ساتھ نبھائے جانے کی آرزو ،تب دل کہتا ہے کسی ویرانے سے راستے نکال لیے جائیں ،لوگوں کی بھیڑ میں ایک قدم کی مسافت بھی گوارا نہیں۔
ہم اکثر ان لوگوں کو ڈھونڈتے ہیں جن سے ہم محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے بے خبر رہتے ہیں جو ہم سے محبت کرتے ہیں۔
رشتے نیچے پڑا رہنے سے کبھی نہیں بدلتے، رشتے بنانے کے لیے کبھی بھیک مت مانگیں، بہادر بنیں، تھوڑی ہمت پیدا کریں اور اس کو اپنائیں جو واقعی آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، اور اس شخص کو اپنی زندگی سے نکال باہر پھینکیں جو ساتھ رہنے اور ساتھ دینے کا ڈرامہ کر رہا ہے
اردو سینٹر پلس

About admin

Check Also

Insaan Ki Pehchaan

Insaan Ki Pehchaan    

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *