Home / Horror Stories / Khabees Jinn Zadiyoon Ne Ujara Ek Larkey Ki Jeewan

Khabees Jinn Zadiyoon Ne Ujara Ek Larkey Ki Jeewan

آج کی کہانی میرے دوست شہریار کی ہے، جو میرا جگری دوست تھا میں اس کو پیار سے شیری کہتا تھا۔میں اور شیری بچپن یاک دوسرے کے ساتھ رہے اور
ساتھ پڑھیں اور کھیل کود کر بڑے ہوئے کیونکہ ہمارا بچپن سے ہی ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا میں ایک عام سے شکل و صورت کا مالک تھا جبکہ شہریار جسے میں پیار سے شیری پڑھتا تھا بے پناہ حسین تھا خدا نے اسے فرصت میں بنایا تھا لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکے بھی اسے دیکھ کر ششدر رہ جاتے تھے وہ دعا ہی ایسا حسین وجمیل یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم اپنی تعلیم سے فارغ ہوئے تھے شیری کے بارے میں ایک سکول میں ہیڈماسٹر تھے ان کا گزارہ اچھی طرح ہو رہا تھا اس کے والد کی اچھی تربیت کا نتیجہ تھا کہ شہری نی کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا تھا ایک دن شیری میرے پاس آیا اور کہنے لگا یار میں جن جوائن کر رہا ہوں تم بھی میرے ساتھ ہی رک جاؤ تو ساتھ آیا جایا کریں








گے میں نے اس سے کہا یار مجھے اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ہے اس لئے میری طرف سے معذرت ہے کہ ان دنوں میرے گھر کے مالی حالات اچھے نہ تھے اس لیے کسی طرح میں نے اسے ڈال دیا جانے لگا تھا جبکہ میں ٹیوشن پڑھانے میں مصروف ہو کیا ہم دونوں فارغ ہوکر ڈھیر ساری باتیں کیا کرتے تھے تائب کی سوجن جانے کی وجہ سے شیری کی بہت زیادہ خوبصورت ہوتی جارہی تھی ایک روز میں نے اسے کہا یار شیری تو ہر روز اپنی نظر دادیاں کر کہیں خدا نخواستہ تجھے میری ہی نظر نہ لگ جائے اس بات پر زور سے بولا چیزوں کو نہیں مانتا اکثر ایسا ہوتا کہ ہم بازار جاتے یا کسی راستے پر جا رہے ہوتے تو لڑکی شہریار کی شیری کوئی راستہ نہیں دیتا بس اپنے کام سے کام کرتا کے والدین کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا جب شیری کا مکمل ہو گیا تو اس نے خود اپنا ذاتی صدر کھولنے کا ارادہ کیا کیونکہ ہمارے علاقے میں کوئی جرم نہیں تھا اور شیری کو بھی یہ کافی دور علاقےمیں جاکر کرنا پڑا تھا ہمارے علاقے میں ایسے بہت سے لڑکے تھے جو شوق رکھتے تھے مگر اپنی کنوینینس نہ ہونے کی وجہ سے بیچارے اپنی اس شوق نہیں دیے بیٹھے تھے ماسٹر سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے شریکاں ہرطرح ساتھیا کی مدد سے علاقے میں جی کھول لیا اس کے جن سینٹر نے اتنی ترقی کی کہ دور دراز سے لڑکے آنے لگے تھے اور پھر یہ ہے کہ دن دگنی رات چگنی ترقی کرنے اور جنسی میں مصروف رہنے کی وجہ سے شیری اب مجھ سے کم ہی ملتا تھا میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ شاید شیری مغرور ہوگیا ہے اللہ تعالی نے اسے ہر معاملے میں قتل کرنا ہے غرور تو آنا ہی ہے اپنے خیالات کو فوراً ہی اپنے ذہن سے جھٹک دیا کرتا کہ میرا دوست شیری کیسا ہے نہیں ہو سکتا جب میں اپنے خیالات شیری کے سامنے یار دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے گی مگر نہیں بدل سکتا مجھے کچھ دنوں سے محسوس ہونے لگا کہ شہری کئی دنوں سے کچھ بجھا بجھا سا لینے لگا ہے وہ میری بات کا بہانہ بنا کر کرتا ہے اس کے اس رویے سے دلبرداشتہ ہوکر میں نے بھی اس سے ملنا جلنا کردیا مگر اس کے باوجود میں شیری کو ہر مزاج رکھتا تھا ایک دن میری ٹیوشن کے بچوں کی چھٹی تھی میں نے سوچا شیری سے ملا جائے یہ سوچ پر میسج کیے جن سے روانہ ہو گیا جب پہنچا تو دیکھا شیری خاصا مصروف ہے جو فارغ ہوکر آیا تو ہم نے کافی دیر باتیں کیں پھر انہوں نے گھرکیاں سے ملنے کے بعد میں اور زیادہ پریشان ہوگیا کیونکہ شیری کا رویہ مجھے کچھ بہت ہی عجیب لگ رہا تھا میرے پر اس نے بہانہ بنا کر ڈال دیا بچوں کے پیپر ہونے والے تھے اس لئے میں اس میں مصروف ہوگیا اور شیری کی طرف جانا بالکل ختم اس کے ساتھ چلا گیا اس کے ساتھ ہی میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا پھر اس کے والدین مجھے الگ کمرے میں لے آئے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس کی بولی میرے لیے شیری جیسی ہو میں نے کبھی تمہیں گھر نہیں سمجھا اور یقینا تمہیں خود کو اس گھر کا فرد ہی محسوس کرتے رہوگے میں تم سے جو کچھ پوچھوں گا مجھے بالکل سچ سچ بتانا ہم شیری کی طرف سے بہت پریشان ہے اس کی دن بدن بگڑتی صحت اور گھر والوں سے گھبرانا نہ جانے اسے کیا ہوگیا ہے ہمیں تو کچھ بتاتا ہی نہیں ہے تم شہری کے قریبی دوست بتاؤ کہ کہیں کسی لڑکی کو تو جبر نہیں ہے جو شہری کوچک سے نہیں دیتا اگر کسی لڑکی کا چکر ہے تو کون ہے وہ لڑکی تم تو جانتے ہوں گے نا اگر کوئی دوسری بات ہے تو وہ بھی بتاؤ ان دونوں کی پریشانی دیکھکر حقیقت میں تو خود بھی پریشان ہو گیا تھا نا شیری پہلے تو ایسا نہیں تھا کہ ہر بات مجھ سے شیئر کیا کرتا تھا اگر کسی لڑکی کا چکر ہے تو میں اپنے بیٹے کی خوشی کی خاطر اسے بھی قبول کر لوں گی اس کا پیکر اور نہ ہی خندہ دیکھوں گی مگر وہ مجھے بتائیں تو سہی اگر کوئی عورت ہے تو اپنے والد سے کہے تو ان کی جان ہے میرے لیے بھی بہت تکلیف دہ ہے میں سمجھتا تھا کہ وہ دن بدن ترقی کرتے جن سینٹر کی وجہ سے محروم ہوجاتا ہے اس لیے وہ مجھے کسی خاطر میں نہیں لا رہا گھر میں بھی اس کا یہی رویہ ہے تو یقیناً کوئی بات ضرور ہے شیری اس نے کہا ہے میرے اس سوال کے جواب میں شریک یہ میں نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں ہی سے اجازت لے کر شیری کے کمرے کی طرف گیا جب اشعری کے کمرے میں آیا تو دروازہ کھلا ہوا تھا اور وہ بیڈ پر خاموش رہتے کو گھور رہا تھا میں نے اسے سلام کیا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا میں اس کے قریب گیا اور اس سے پوچھا یا جوہر بنا رکھا تھا اس نے میری طرف دیکھا اور لڑکوں کی کوشش کرنے لگا مگر اس کا چکی تھی کہ اس سے اٹھا بھی نہ کیا میں اس کی یہ حالت دیکھ کر آبدیدہ ہو گیا کہ وہ شیری تو نہ تھا جس کی خوبصورتی پر لوگ تھے اور وہ ایک عجیب سی بے بسی اور لاچاری کی تصویر بنا ہوا تھا اس کی یہ حالت مجھ سے دیکھی نہ دے اور میں گھر واپس آگیا اس کے دو تین دن بہت مصروف ہو سے میں شہری سے پھر ملا جاتا تھا مگر ٹائم نہیں مل رہا تھا اس روز چھٹی کا دن تھا میں گھر پر ٹی وی کے آگے بیٹھ تھا کہ اتنے میں شہری کا چھوٹا بھائی پھر مجھ سے ملنے آ گیا کہنے لگا بھائ آپ کو امی نے بلایا ہے اگر افطاری ہے تو ابھی میرے ساتھ چلے اس لیے شیری کے چھوٹے بھائی کے ساتھ جانے سے پہلے اپنی امی کو بٹھا کر شہری کے گھر آ گیا اس سے اگلے گی یہ شیری کی موجودہ حالت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ کس کی نظر لگ گئی ہے کیا ہے ڈاکٹر کو دکھایا ہے مگر اس کا مرض کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا مجھ سے پوچھتے ہیں تو وہ ہمیں کچھ نہیں بتاتا دیکھو شہری کی والدہ مسلط جا کر رہی تھی انڈیا فکر نہ کریں اللہ تعالی سے اچھی امید رکھیں یہ کہہ کر میں شریک کمرے میں آیا اسے ایک دھچکا سا لگا شیری کی بہت بری حالت تھی مجھے اپنے سامنے دیکھ کر رونے لگا اس سے میں پریشان ہو گیا بیلنس کے قریب پہنچا کرو اور مجھے بتاؤ یار کے آخر یہ سب کیا ہے میں تو خود ایسی زندگی سے بیزار آ چکا ہوں بچائے اس کے والدین پر سہارا بنو الٹا عوام پر بوجھ بن جائے میرا ہر کام اب روتا ہے میں تو بس یہی دعا مانگتاہوں کہ جلد سے جلد مجھے موت آ جائے تاکہ کسی بھائی زندگی سے مجھے نجات ملے مایوسی کی باتیں مت کر میرا ہمت والا دوست ہے تیرے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتیں یہ کہتے ہیں میری آنکھوں سے آنسو نکل آئیں تو میں کیا کروں شیری نے پوچھا جو میں تجھ سے کہہ رہا ہوں یار تو بتا دو تو نہیں ہے تیرے ساتھ مسئلہ کیا ہے تیری خاموشی اچھا انداز کچھ تو ہم سب سے چھپا رہا ہے دل کی بات کہنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے مجھ سے شہر گیا ہوں یہ کہتے ہوئے جو میں نے اب تک کسی کو نہیں چھوڑتے تجھے اپنے دوسرے اعتبار نہیں ہے تو ہے ہی ایسی ہے کہ میں بتانے کی ہمت نہیں کرتا میں نہیں چاہتا کہ سب کچھ جان لینے کے بعد کوئی میرے بارے میں غلط رائے قائم کرے جبکہ میرا اس سب چیزوں میں کوئی قصور نہیں ہے یار بتا بھی دو مجھ کو دیکھتا رہا پھر بولا تم جانتے ہو کہ میرے جن کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی ہے مگر میں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے تو ایک دن میں لڑکوں کو ایکسرسائز کروا رہا تھا کہ میری جنسی میں دو لمبے قد کی عورتیں داخل ہوں انہوں نے اپنے چہرہ نقاب میں ڈھلے ہوئے تھے وہ چلتے ہوئے ہیں میرے پاس آ کر کے ان میں سے ایک عورت نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کیسے ہو شہری میں اس کے منہ سے اپنا نام سن کر حیران رہ گیا کہ ٹوٹتے ہرگز میرے خاندان یا محلے کی نہیں تھی اور نہ ہی میں کھاتا پھر وہ مجھے کیسے جاتی تھی میں آپ کی تصویر بنانے دیکھتا جا رہا تھا آخر ہمت کر کے میں نے ان سے پوچھا آپ کون ہیں میں آپ کو نہیں جانتا اور اگر آپ کو مجھ سے کوئی کام تھا تو آپ کو میرے گھر ہونا چاہیے تھا جو عورتوں کے لیے غیر مناسب ہے اور میں سے ایک عورت بولی چھوڑو جان پہچان کو ہم تمہیں جانتے ہیں یہی کافی ہے اور نہ آج رات ہم تمہارے گھر آئیں گی تیار رہنا یہ کہہ دو اور تصویریں لوگوں کو جاتا دیکھ کر ہوسکتا ہے کافی دیر سوچنے کے بعد میں نے ان کا خیال ذہن سے یہ سوچ کر دیا کہ گھر آئیں گی تو ان سے تفصیل سے پوچھوں گا جب میں جن سے گھر آ گئے ہو تو دونوں عورتوں کا خیال میرے ذہن سے نکل چکا تھا میرا روز کا معمول تھا کہ کھانے سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں چہل قدمی کرتا تو ٹی وی دیکھا تھا جن سے آنے کے بعد مجھے کافی تھک نہ جائے جایا کرتی تھیں اس لئے جلد یہی سوچ لیا کرتا تھا اس رات بھی میں گہری نیند سو رہا تھا کہ اچانک میری آنکھ نہ جانے کس احساس سے کھل گئی میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو دیکھا دے دونوں اور کھڑی تھی سے آزاد تھے ان کے چہرے کے خدوخال ڈھونڈتے تھے جنہیں تو مجھے محسوس ہورہا تھا کہ تھا ہوگی جب میں نے اس بات کا اظہار ان سے کیا تو ایک عورت بولی ہم کہیں کیا جاسکتے ہیں اس کے لیے ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے اور تم سے ملنے کے لئے دیکھو ہمیں شرم آتی ہے سودا کی قصیدہ کی معافی مانگی نمازمترجم بستر پر لیٹ گیا کہ دل چاہے تک سوتا رہا اور اسے اٹھا کر ناشتہ کیا کر رہا تھا جن کو گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا رات کو جب میں اپنے کمرے میں آنے لگا تو کل کا منظر نہیں نظروں میں گھوم گیا جسے یاد کر کے مجھے گھبراہٹ سی ہونے لگی پھر میں نے اپنے دل کو خود ہی تسلی تھی کہ پریشان ہونے کی بجائے ان کے ارادہ سے باز رکھنا ہے اس کو نہ جانے کون سے پہلے وہ دونوں عورتیں بھی نمودار ہوئی اور سوئی ہوئی حالت میں ہی انہوں نے میرے ساتھ نازیبا حرکتیں کرنا شروع کر دی جس سے میری آنکھ کھل گئی اور ان کی گرفت میں پوری طرح مچل رہا تھا مگر وہ نہ جانے کیسی فولادی قسم کی عورت تھی کہ باوجود مرد ہونے کے مقام پر قابو نہیں پا سکتا پھر اچانک جو میری نظروں کے سامنے سے غائب ہوگئی ان کے جا رہا تھا میرا جسم دکھ رہا تھا میں تو ایسا زوردار انسان تھا کہ عامر مجھ سے الجھنے کی غلطی نہ کرتا تھا پھر میں ان اردو سے کیوٹ صبح ہو گیا تھا اور پھر اکثر ایسا ہونے لگا اور دونوں عورتیں بھی تو میں آتی رات بھر کھیل کر غائب ہو جاتی ہے کچھ بھی کر سکتا تھا طاقتور جب کہ میری تمام قوتیں نہ جانے کہاں چلی جاتی تھی کہ میں ان کے آگے بالکل بے بس ہو کر رہ جاتا تھا یہ شرم کے میکسی کو دعا کیوں نہیں سکتا اس لئے میں نے چپ سادھ لی کہ کون یقین کرے گا میری ان سب باتوں پر فلٹر سب لوگ میرا مذاق اڑائیں گے مجھے غلط قرار دیں گے اس لئے مجھے جو بھی رہنا بہتر ہے یہ جو تم مجھ سے بیزار دیکھ رہا ہے نہ یہ انبطخ گندی عورتوں کی گرمی کا نتیجہ ہے پہلے تو وہ لڑکھڑا کر چلتا تھا اب تو مجھ سے چلنا تو دور کی بات ہے کیا کرتے ہیں اور افسوس کا مقام ہے کہ مجھے اپنے والدین کا سہارا بننا چاہیے تھا الٹا میں ان پر بوجھ بن کر رہ گیا ہوں دعا کرتا ہوں کہ ایسی زندگی سے تو موت ہی آجائے رونے لگا شیری کو روتا دیکھ کر میرا دل دکھ کی شدت سے کرنے لگا میں نے اس کے کندھے پر بھائی پیار مایوسی کی باتیں نہیں کیا کہتے اللہ سے ڈرنے کی دعا کرو وہ سب کچھ ٹھیک کردے گا میں بھی پوری کوشش کروں گا تمہیں اس مصیبت سے نجات دلانے کی بہت دیر ہو چکی ہے اب میں چلتا ہوں تم فکر مت کرو انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا یہ کہہ کر میں اسکو کمرے سے باہر آ گیا ہوا تھا کہ شیری کو ہر قیمت پر ان خبیث گندی جنات عورتوں کے جنگل سے نکالوں گا شیری نے مجھے کمرے سے نکلنے سے پہلے ہر جوڑ کر التجا کی کہ اگر کسی اور سے نہ کرنا ہو گا اس کو ضرور بتاؤں گا کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جس کو نظر انداز کیا جائے شعری کے والد کے پاس پہنچا اور بری باتوں نے کہا کہ انکل آپ دیر نہ کریں شیری عالم کو دکھائیں ہیں خدانخواستہ شہری کو کوئی نقصان اٹھانا پڑ جائے ان تمام باتوں کو سن کر انکل بولے اگر شہری مجھ پر اعتماد کرکے یہ تمام باتیں مجھے پہلے بتا دیتا ہے مگر وہ شرمندگی سے نظریں نہی ملا رہا میں اپنے بیٹے کو کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتا اگر مجھے سب کچھ پہلے بتا دیتا تو میں بات آگے بڑھنے نہیں دیتا ہر حال میں آج ہی سید شاہ صاحب سے ملتا ہو اس سلسلے میں وہی مدد کر سکتے ہیں ٹھیک ہے میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا کہ یہ شاید ہمارے علاقے کے مشہور روم کے باہر جانے جاتے تھے ان کے پاس دور دور سے لوگ آتے تھے ان کی دعا میں بھی بہتر تھا وہ عشاء کے بعد بیٹھتے ہیں اور لوگوں کے مسلے حل کیا کرتے ہیں چنانچہ عشاء کی نماز پڑھتے میں شریک گھر آگیا اور اس کے والد کے ہمراہ سید شاہ صاحب کی طرف روانگی ہوئی اس کے بعد ہماری باری آگئی ہے شہری کے ساتھ پیش آنے والے تمام واقعات شاہ صاحب کا بتائیں جس میں شاہ صاحب سوچ میں پڑ گئی کہ کچھ دن کے بعد بولے مسلم اور کافر ہوتا ہے آئیے اسے دیکھنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے دوسرے ریکوری توصحیح شاہ صاحب کے پاس پہنچے شیری کے لیے ہم وہاں کس طرح پہنچے یہ ایک الگ داستان ہے شیری کو دیکھنے کے بعد شاہ صاحب نے کہا اس بچے پر جن زادی عاشق ہو گئی ہیں اور وہ بھی شیطان کے پیروکار کیا ان سے بچنا نہایت مشکل ہے تاہم ناممکن نہیں ہے ان سے نمٹنا ایک مشکل عمل ہے اور انتہائی معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا لیکن میں آپ کو یہ بھی ہدایت کی کہ کسی بھی صورت میں دیر نہ کریں باہر جانے کے لئے اور نہ ہی میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ مرد عورتیں اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے حیرت کی بات یہ تھی کہ ان سب کے قرب عام انسانوں سے زیادہ تھے جبکہ وہ سب کے سب سامنے تھے اور سب کی شکلیں ایک جیسی تھی ان کے چہرے پیپر آنکھیں اور نمایاں تھے نا کتنی بری تھی کہ کوئی اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ سکتا تھا یہ کیسی بستی تھی جہاں حیرت ہی رہی تھی چھوٹا سا تھا اس لیے برکتوں پہنچنے میں ہمیں کوئی دشواری پیش نہ آئے قبر کے اندر داخل ہوئے تو پر جا کر بیٹھ گئیں یہاں آکر شیری بہت ہی اس طرح کی حالت میں دکھائی دے رہا تھا اس درگاہ سے اٹھ کر بھاگ جاتا ہمارے وہاں بیٹھنے کی کچھ دنوں بعد بارگاہ میں ایک مرد داخل ہوا اور کہنے لگا کہ ہم آرام سے بیٹھے شاہ جی آپ کی تشریف لاتے ہیں یہ کہہ کر واپس چلا گیا اس کے جانے کے کچھ ہی دیر کے بعد وہ ایک عورت ہاتھ میں ایک بڑی بالٹی اور پاکستانی گئی کچھ ہی دیر کے بعد ایک اٹھتا شخصیت اندر داخل ہوئی تو ایک رہیں ہمیں اندازہ ہو گیا کہ یقینا یہ شاھ جی ہیں کہ انہوں نے ہم سے آنے کا مقصد پوچھا شیری کے بارے میں مختصر امام کے ساتھ کہہ سنایا تمام باتیں سننے کے بعد انہوں نے شیری کے والد سے کہا سب سے پہلے تو اس لڑکے کے گلے اور بازو سے بندھے تمام تعویذ نکال کر اس پے میں ڈالتے تھے اور بازو کے تمام تعویذ نکال کر کونے میں رکھّی ڈبے میں ڈال دیے گئے جس سے شیری کی بے چینی میں اب فرمایا یہ شاہ کی شیری پر دم کیا ان کے دم کرنے سے شیری بالکل پر سکون ہوگیا اور جو ہم سب کو پانی پلا کر گئی تھی پھر آئی ہوئی تھی اس نے پہلے دسترخوان بچھایا پھر اس پر کھانا چندیاں چلی گئی اس کے جانے کے بعد شاہ جی نے ہمیں کھانے کا اشارہ کرتے ہیں ہوئے کہا آپ لوگ ہمارے




مہمان ہیں اور ہمارے یہاں مہمان نوازی کا رواج ہے دیر نہ کریں آجائے ہم کھانے کے لئے دستر خوان کے قریب آگئے کھانے سے فارغ ہوئے تو شاہ صاحب نے ایک دم کیا ہے
تھا کیا تھا پر پہنچے وہاں وہ عورت کھانا کھا ہم تھی کہ ہم کھانا کھانے سے انکار کرتے لہذا صرف میں انتہائی خاموشی سے کھانا کھایا کھانے سے دسترخوان سے اٹھ کر چلی گئی شاہ جی شیری پر دم کیا اور اسی بوتل میں دوسرا پانی کم کرکے دیا کہنے لگے گانا ہے انشاء اللہ تعالی آپ کا بیٹا اللہ کے فضل سے ٹھیک ہو جائے گا پانی ختم ہوجائے تو دوسرا پانی ڈال لیا جائے اس کے بعد ہم لوگوں نے اجازت چاہی گاڑی کے ذریعے گھر آگئے علاج کے دوران ایک بار بھی وہ خبیث گندی جنسیاتی عشری کے پاس پہنا سکیں جس کی وجہ سے تیزی سے بہتر ہوتا جا رہا تھا اور اللہ کے کرم کی وجہ سے ہوا تھا ہم باقاعدگی سے ہر منگل کو ہر بار وہی عورت سب سے پہلے پانی لاتی تھی اور کچھ دیر بعد کھانا اور اتنے دنوں ہمہ جا رہے تھے مگر اس دوران میں اس عورت نے کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھیں لکھا تھا اور نہ ہی کسی سے مخاطب ہوئی تھی بہر لینا دینا تھا ہمارے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ مارے گا مارے تھے بالآخر ساتھ منگلا پہنچا اس دوران شریف ہو چکا تھا ہم شہری کو لے کر درگاہ پہنچے حسب معمول پہلے ہمارا پانی بھی کھانے سے تواضع کی گئی خوشگوار شادی کی آمد انہوں نے شیری پر دھمکیاں دیتے ہوئے کہا آپ کا بیٹا اللہ کے فضل و کرم سے ٹھیک ہوگیا ہے اور وہ دونوں خبیث شیطان جلا دیا کبھی اسے تنگ نہیں کریں گی لیکن کام کرن ہوگا کہ یہ لڑکا جن سائیکل چلاتا ہے وہ جن سینٹر اس کو چھوڑنا پڑے گا آپ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال کہ شیری کی طبیعت اب اس دن سے کیا تعلق ہے تو میں مختصر نصاب کو پہنچ چکا تھا وہ تھا آپ لوگوں نے اجازت سے اس دن سینٹر کی تعمیر کرائی تھی مگر جو جنات تھے اس جگہ سے جانے کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے نتیجہ آپ لوگوں کے سامنے ہے بہر حال جو غصے کو چھوڑیں اور اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کا بیٹا بن خبیثوں کے چنگل سے آزاد ہو چکا ہے اور آئندہ کبھی بھی اس کو ستانے کی ضرورت نہ کریں گی لیکن اب یہ لڑکا سجن سینٹر کی طرف کبھی نہ کریں یہی اس کے حق میں بہتر ہوگا ہم نے ان سے اجازت چاہیں تو وہ کہنے لگے آپ کو مزید علاج کی ضرورت نہیں ہے اس کو کوئی ضروری کام ہوا پایا جاسکتا ہے ورنہ یہ آکر دوبارہ ختنہ کرنا ان کی شخصیت کا حصہ تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی کیوں کا سوال نہ کر سکا اور ہاں میں سر ہلا کر ہم سر کہاں سے کہاں گئے اب اس نے اپنے تمام پرانے چھوڑ دیے ہیں اس کی صحت اب پہلے جیسی نہیں رہی اور باہر پہلے جیسا حسین رہا ہے اور وہ کیسا کہ کبھی خوبصورت بھی رہا ہوگا کہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہو گا دوسری طرف شیری کو دہرانا بھی نہیں جاتا جبکہ مجھے اس میں ماضی بھی یاد ہے وہ عجیب وغریب گاؤں بھی جہاں چاہنے کے باوجود ہم میں سے کسی نے بھی دوبارہ اس کارکن ہیں کیا کیا بیٹا آپ کو یہ کہانی سچ نہ لگے لیکن یہ بالکل ناقابل یقین کہانی ہے

User Rating: 4.45 ( 7 votes)

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *